جلوہ فگن

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - عکس ڈالنے والا، جلوہ دینے والا، نمودار، ظاہر۔ "پڑھنے والے کو اس کردار میں سرسید کا عکس بھی جلوہ فگن معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نذیر احمد اور اردو ناول نگاری، ١٥٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جلوہ' کے ساتھ 'فگندن' مصدر سے صیغۂ امر 'فگن' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'جلوہ فگن' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ملتا ہے۔ ١٩٦٩ء میں "نذیر احمد اور اردو ناول نگاری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عکس ڈالنے والا، جلوہ دینے والا، نمودار، ظاہر۔ "پڑھنے والے کو اس کردار میں سرسید کا عکس بھی جلوہ فگن معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نذیر احمد اور اردو ناول نگاری، ١٥٥ )